Tuesday, 9 April 2019

Raaz Ulfat Chupa Ke Dekh Liya



ROMAN VERSION

Raaz-e-ulfat chupa ke dekh liya
dil bahut kuch jala ke dekh liya

aur kiya kehne ko baqi hae
aap se dil laga ke dekh liya

woh mere ho ke bhi mere na hue
unko apna bana ke dekh liya

aaj unki nazron mein kuch hum ne
sab ki nazren bacha ke dekh liya

faiz takmeel-e-gham bhi ho na saki
ishq ko aazma ke dekh liya 
 

شاعر کا نام:
فیض احمد فیض

اشعار (Urdu Text):
رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
فیض کی یہ غزل محبت میں ملنے والی محرومی، اداسی اور تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس میں شاعر نے یہ بیان کیا ہے کہ عشق میں انسان چاہے جتنی بھی کوشش کر لے، آخر کار اسے درد اور تنہائی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اشعار کی تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنی محبت کو دنیا سے چھپانے کی بہت کوشش کی تاکہ کوئی انگلیاں نہ اٹھائے، لیکن اس خاموشی اور راز داری نے میرے دل کو اندر ہی اندر جلا کر راکھ کر دیا۔ یعنی محبت چھپانے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ انسان کو اندر سے ختم کر دیتی ہے۔
  2. دوسرا شعر: یہ شعر ایک گہرے طنز اور دکھ پر مبنی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب زندگی میں اور کیا دیکھنا باقی رہ گیا ہے؟ ہم نے آپ سے دل لگا کر زندگی کا سب سے بڑا تجربہ کر لیا، جس کا انجام صرف دکھ نکلا۔
  3. تیسرا شعر: یہاں محبوب کی بے رخی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ انہیں اپنا بنا سکوں، تمام رشتے نبھائے، مگر وہ ساتھ ہو کر بھی کبھی میرے نہ بن سکے، ان کے دل میں میرے لیے وہ جگہ نہ بن سکی جو میں چاہتا تھا۔
  4. چوتھا شعر: اس شعر میں ایک چھپی ہوئی امید اور چوری چھپے دیکھنے کی لذت کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب ہم نے زمانے کی نظروں سے بچ کر ان کی آنکھوں میں جھانکا، تو ہمیں وہاں کچھ خاص محسوس ہوا، جو شاید سب کے سامنے ممکن نہیں تھا۔
  5. مقطع (آخری شعر): فیض کہتے ہیں کہ عشق میں ہم تو مٹ گئے، لیکن ہمارا غم پھر بھی مکمل نہ ہو سکا۔ ہم نے عشق کو ہر طرح سے آزما کر دیکھ لیا، مگر اس راستے میں سکون کہیں نہیں ملا۔
 

Poet : Faiz Ahmad Faiz

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

0 comments:

This Month Trending