Itni Shidat Se To Barsaat Be Kam Kam Barsay
Jis Traha Ankh Teri Yaad Main Cham Cham Barsay
اتنی شدت سے تو برسات بھی کم کم برسے
جس طرح آنکھ تیری یاد میں چھم چھم برسے
جس طرح آنکھ تیری یاد میں چھم چھم برسے
تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
ان اشعار میں شاعر نے اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا موازنہ بارش کے برسنے سے کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کسی کی یاد میں تڑپنا برسات سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
ان اشعار میں شاعر نے اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا موازنہ بارش کے برسنے سے کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کسی کی یاد میں تڑپنا برسات سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
تفصیل:
- پہلا مصرع: شاعر کہتا ہے کہ آسمان سے برسنے والی بارش کی بھی ایک حد ہوتی ہے، وہ بھی اتنی تیزی اور تسلسل سے نہیں برستی جتنا کہ میرا غم مجھے رلاتا ہے۔ یعنی قدرتی برسات بھی میری تکلیف کے سامنے کم لگتی ہے۔
- دوسرا مصرع: یہاں محبوب کی یاد کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب بھی تمہاری یاد آتی ہے تو میری آنکھیں برسنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ "چھم چھم" برسنا اس گہرے دکھ اور لگاؤ کی علامت ہے جو بچھڑ جانے کے باوجود ختم نہیں ہوا۔ یہ شعر کسی کی شدید یاد میں گزاری گئی تنہائی کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔


0 comments: