Tuesday, 9 April 2019

Aj Tumhari Salgirah Hai



Wehshat Se Ranjur Hain
Mehfil Tu Abaad Hai Na
Aj Tumhari Salgirah Hai 
Dekho Hum Ko Yad hai Na

شاعر کا نام:
جون ایلیا

اشعار (Urdu Text):
وحشت سے رنجور ہیں ہم
محفل تو آباد ہے نا
آج تمہاری سالگرہ ہے
دیکھو ہم کو یاد ہے نا
ہم تو خیر جیے جیسے بھی
تم کو سب کچھ یاد ہے نا
کون کسے اب پوچھے گا
سب کچھ اب برباد ہے نا

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
یہ غزل جون ایلیا کے مخصوص لب و لہجے کی عکاسی کرتی ہے جس میں دکھ، تنہائی اور ایک کڑواہٹ موجود ہے۔ اس میں بچھڑ جانے کے بعد کے کرب اور یادوں کے بوجھ کو بیان کیا گیا ہے۔
اشعار کی تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ ہم تو اپنی تنہائی اور وحشت کی وجہ سے غمگین ہیں، لیکن سنا ہے کہ تمہاری زندگی میں اب بھی رونقیں ہیں اور تمہاری محفلیں پہلے کی طرح ہی آباد ہیں۔ یہ ایک طرح کا طنز ہے کہ بچھڑنے کا دکھ صرف ایک طرف ہے۔
  2. دوسرا شعر: یہ اس غزل کا سب سے مشہور شعر ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو یاد دلا رہا ہے کہ اگرچہ ہم اب ساتھ نہیں ہیں، لیکن میں تمہاری زندگی کے اہم دن (سالگرہ) کو آج بھی نہیں بھولا۔ یہ جتانا دراصل اپنی سچی محبت کا ثبوت دینا ہے۔
  3. تیسرا شعر: یہاں ایک گہرا دکھ ہے کہ ہم نے تمہارے بغیر زندگی جیسے تیسے گزار لی، چاہے وہ کتنی ہی تکلیف دہ کیوں نہ تھی۔ مگر کیا تمہیں وہ سب باتیں اور وعدے یاد ہیں جو ہم نے ساتھ کیے تھے؟
  4. چوتھا شعر: غزل کے اختتام پر مایوسی کی انتہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تعلق ہی ختم ہو گیا اور سب کچھ برباد ہو چکا ہے، تو اب کوئی کسی کا حال کیوں پوچھے گا؟ اب سوال و جواب کا وقت گزر چکا ہے۔


Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

0 comments:

This Month Trending