Ab Aur Kis Mosam Se As Lagain Hum
Barsaat Main Bhi Yad Jab Unko Na Aye Hum
Shared By
Barsaat Main Bhi Yad Jab Unko Na Aye Hum
اب اور کس موسم سے آس لگائیں ہم
برسات میں بھی یاد جب ان کو نہ آئے ہم
برسات میں بھی یاد جب ان کو نہ آئے ہم
تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
اس شعر میں محبوب کی شدید بے رخی اور لاپرواہی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب برسات جیسا رومانوی اور یادیں دلانے والا موسم بھی محبوب کے دل میں ہماری یاد پیدا نہ کر سکا، تو اب کسی اور موسم سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
اس شعر میں محبوب کی شدید بے رخی اور لاپرواہی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب برسات جیسا رومانوی اور یادیں دلانے والا موسم بھی محبوب کے دل میں ہماری یاد پیدا نہ کر سکا، تو اب کسی اور موسم سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
تفصیل:
- پہلا مصرع: شاعر اپنی مکمل مایوسی کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان حالات اور موسموں سے امیدیں جوڑتا ہے کہ شاید کوئی خاص وقت آئے اور اسے اپنا پیارا یاد آ جائے۔ لیکن اب وہ تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔
- دوسرا مصرع: اردو شاعری میں برسات کو یادوں اور جدائی کے تڑپنے کا موسم مانا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ موسم جو سب کو اپنوں کی یاد دلاتا ہے، اس میں بھی اگر محبوب نے ہمیں یاد نہیں کیا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے دل میں ہماری کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ شعر تعلق کے مکمل خاتمے اور بے رخی کے کرب کو بیان کرتا ہے۔


0 comments: