Andheri Raat Main Rehtay Tu Kitna Acha Tha
Hum Apni Zaat Main Rehtay Tu Kitna Acha Tha
Dukhon Ne Bant Liya Hai Tumharay Bad Hamain
Tumharay Hath Main Rehtay Tu Kitna Acha Tha
اندھیری رات میں رہتے تو کتنا اچھا تھا
ہم اپنی ذات میں رہتے تو کتنا اچھا تھا
دکھوں نے بانٹ لیا ہے تمہارے بعد ہمیں
تمہارے ہاتھ میں رہتے تو کتنا اچھا تھا
شاعر کا نام:
وسیم بریلوی
تشریح (Explanation):
اس خوبصورت کلام میں شاعر نے انسان کی اندرونی تنہائی اور بچھڑ جانے کے دکھ کو بڑے گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔
پہلے شعر میں شاعر ماضی کی یادوں اور موجودہ تکلیف کا موازنہ کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم اندھیروں میں ہی رہتے یا اپنی ہی ذات تک محدود رہتے تو شاید اس تکلیف سے بچ جاتے جو کسی کے مل کر بچھڑ جانے سے ملتی ہے۔ یہ انسان کی اس کیفیت کی عکاسی ہے جب وہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور اسے اپنی پرانی تنہائی زیادہ پرسکون لگنے لگتی ہے۔
دوسرے شعر میں محرومی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تک تم ساتھ تھے، زندگی ایک مرکز پر جمع تھی۔ لیکن تمہارے جانے کے بعد اب زندگی کے ہر لمحے پر دکھوں کا راج ہے۔ دکھوں نے ہمیں آپس میں تقسیم کر لیا ہے، یعنی اب ہماری شناخت صرف غم بن کر رہ گئی ہے۔ کاش ہم تمہارے ساتھ ہی رہتے تو یہ بکھرنا نہ پڑتا۔
Shared By
Admin
URDU SHAYARI