Saturday, 2 May 2026

Isi se jaan gaya main ke bakht dhalne lage




Ye ghazal unki sabse mashhoor takhleeqat mein se ek hai, jo waqt ki be-sabati aur dunya ke badalte hue rawaiyyon ki akasi karti hai. AdSense ke liye is ghazal ka mukammal format niche diya gaya hai: 
Poetry & Explanation (Urdu & Roman Urdu)
Shayar Ka Naam: Farhat Abbas Shah (فرحت عباس شاہ) 

1. Urdu Script (Urdu Rasm-ul-Khat)
اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے
میں تھک کے چھاؤں میں بیٹھا تو پیڑ چلنے لگے
میں دے رہا تھا سہارے تو ایک ہجوم میں تھا
جو گر پڑا تو سبھی راستہ بدلنے لگے
2. Roman Urdu Script
Isi se jaan gaya main ke bakht dhalne lage
Main thak ke chhaon mein baitha to peed chalne lage
Main de raha tha sahaare to ek hujoorm mein tha
Jo gir pada to sabhi raasta badalne lage 

3. Tashreeh (Urdu Mein)
اس کلام میں فرحت عباس شاہ زندگی کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب میرا برا وقت شروع ہوا تو مجھے احساس ہوا کہ حالات بدل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جس درخت کی چھاؤں میں میں سکون کے لیے بیٹھا، وہ بھی میرا ساتھ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا (یعنی سکون بھی میسر نہ رہا)۔ دوسرے شعر میں وہ کہتے ہیں کہ جب تک میں دوسروں کی مدد کر رہا تھا، میرے گرد لوگوں کی بھیڑ تھی، لیکن جیسے ہی میں خود مشکل میں پڑا اور مجھے سہارے کی ضرورت ہوئی، وہی لوگ انجان بن کر اپنا راستہ بدل گئے۔
4. Tashreeh (Roman Urdu Mein)
Is kalam mein Farhat Abbas Shah zindagi ki talkh (bitter) haqeeqat bayan karte hain. Wo kehte hain ke jab mera bura waqt shuru hua to mujhe ehsas hua ke halat badal rahe hain. Yahan tak ke jis darakht (tree) ki chhaon mein main sukoon ke liye baitha, wo bhi mera sath chhod kar aage badh gaya. Dusre sher mein wo kehte hain ke jab tak main dusron ki madad kar raha tha, mere gird logon ki bheed thi, lekin jaise hi main khud mushkil mein pada aur mujhe sahare ki zaroorat hui, wahi log anjan ban kar apna rasta badal gaye.



فرحت عباس شاہ کی مکمل غزل درج ذیل ہے:
اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے
میں تھک کے چھاؤں میں بیٹھا تو پیڑ چلنے لگے
میں دے رہا تھا سہارے تو ایک ہجوم میں تھا
جو گر پڑا تو سبھی راستہ بدلنے لگے
یہ کس نے ہاتھ ہلایا، یہ کس نے دی ہے صدا
ابھی تو دھوپ چڑھی تھی کہ سائے جلنے لگے
یہ کون سانپ مری آستین میں پلنے لگے
جو میرا خون تھا، اب وہ بھی زہر اگلنے لگے
سفر کی دھوپ میں یاد آئی اس کی زلف کی چھاؤں
تپش بڑھی تو کئی خواب آنکھ میں جلنے لگے


Farhat Abbas Shah ki ye mashhoor ghazal wafa, badalti wafaon, aur apnon ke badalte rangon ke mauzu par likhi gayi hai. Ye ghazal saaye aur dhoop ke istearaon ke zariye mushkil waqt mein logon ke rawaiye ko zahir karti hai.
Isi se jaan gaya main ke bakht dhalne lage
Main thak ke chhaon mein baitha to peed chalne lage
Main de raha tha sahaare to ek hujoorm mein tha
Jo gir pada to sabhi raasta badalne lage
Ye kis ne haath hilaya, ye kis ne di hai sada
Abhi to dhoop chadhi thi ke saaye jalne lage
Ye kaun saanp meri aasteen mein palne lage
Jo mera khoon tha, ab wo bhi zehar ugalne lage
Safar ki dhoop mein yaad aayi us ki zulf ki chhaon
Tapish badhi to kai khwab aankh mein jalne lage


Farhat Abbas Shah ki is mukammal ghazal mein zindagi ki talkh haqeeqaton aur apnon ki be-rukhai ko gehrayi se bayan kiya gaya hai. Ismein shayar ne mushkil waqt mein doston ke sath chhodne aur apno ke badalte rangon ka zikr kiya hai.
Tashreeh (Roman Urdu):
  1. Sher 1: Jab bura waqt aata hai, to sukoon ki talash mein jahan jaen, wahan se mayoosi milti hai aur madad bhi nahi milti.
  2. Sher 2: Matlabi log tab tak sath rehte hain jab tak aap kamyab hon; nakaami par wahi log rasta badal lete hain.
  3. Sher 3: Mushkilat shuru hote hi apno ka sath chhod jana aur haalat ka kharab ho jana bayan kiya gaya hai.
  4. Sher 4: Jin apno ko paala, wahi zehar ugalne lage hain, yaani apne hi log dushman ban gaye hain.
  5. Sher 5: Zindagi ki takleefon mein sukoon bhare lamhat ki yaad aur umeedo ka toot jana dikhaya gaya hai.

Thursday, 11 April 2019

Andheri Raat Main Rehtay Tu Kitna acha Tha



Andheri Raat Main Rehtay Tu Kitna Acha Tha
Hum Apni Zaat Main Rehtay Tu Kitna Acha Tha
Dukhon Ne Bant Liya Hai Tumharay Bad Hamain
Tumharay Hath Main Rehtay Tu Kitna Acha Tha
 

اندھیری رات میں رہتے تو کتنا اچھا تھا
ہم اپنی ذات میں رہتے تو کتنا اچھا تھا

دکھوں نے بانٹ لیا ہے تمہارے بعد ہمیں
تمہارے ہاتھ میں رہتے تو کتنا اچھا تھا


شاعر کا نام:

وسیم بریلوی


تشریح (Explanation):

اس خوبصورت کلام میں شاعر نے انسان کی اندرونی تنہائی اور بچھڑ جانے کے دکھ کو بڑے گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔

پہلے شعر میں شاعر ماضی کی یادوں اور موجودہ تکلیف کا موازنہ کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر ہم اندھیروں میں ہی رہتے یا اپنی ہی ذات تک محدود رہتے تو شاید اس تکلیف سے بچ جاتے جو کسی کے مل کر بچھڑ جانے سے ملتی ہے۔ یہ انسان کی اس کیفیت کی عکاسی ہے جب وہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے اور اسے اپنی پرانی تنہائی زیادہ پرسکون لگنے لگتی ہے۔

دوسرے شعر میں محرومی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تک تم ساتھ تھے، زندگی ایک مرکز پر جمع تھی۔ لیکن تمہارے جانے کے بعد اب زندگی کے ہر لمحے پر دکھوں کا راج ہے۔ دکھوں نے ہمیں آپس میں تقسیم کر لیا ہے، یعنی اب ہماری شناخت صرف غم بن کر رہ گئی ہے۔ کاش ہم تمہارے ساتھ ہی رہتے تو یہ بکھرنا نہ پڑتا۔

 

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Wednesday, 10 April 2019

Sada Khush Rakhna Mere Khuda Usko



Sada Khush Rakhna Mere Khuda Usko
Tere Farishtay Bhi dain Dua Usko 
Dena Us ko Is Ki Cahat Se Bhi Zyada
Mangay Katra Tu Mile Dariya Usko
سدا خوش رکھنا میرے خدا اس کو
تیرے فرشتے بھی دیں دعا اس کو 
دینا اس کو اس کی چاہت سے بھی زیادہ
مانگے قطرہ تو ملے دریا اس کو
تشریح (Explanation):
یہ اشعار محبت اور خلوص کا نچوڑ ہیں۔ ان میں ایک انسان دوسرے کے لیے خدا سے نہایت عاجزی کے ساتھ دعا مانگ رہا ہے۔
  • پہلے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے میرے مالک! اس شخص کو ہمیشہ خوش رکھنا اور اس کے لیے زمین کے ساتھ ساتھ آسمان والے (فرشتے) بھی خیر کی دعا کریں۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جب انسان کسی سے سچی محبت کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے کائنات کی ہر مخلوق سے دعا کا طلب گار ہوتا ہے۔
  • دوسرے شعر میں سخاوت اور کمالِ دعا کا ذکر ہے۔ شاعر دعا کرتا ہے کہ اسے اس کی امیدوں اور خواہشات سے بھی بڑھ کر نوازا جائے۔ اگر وہ زندگی میں چھوٹی سی خوشی (قطرہ) بھی مانگے، تو اسے خوشیوں کا سمندر (دریا) عطا کیا جائے۔
 



Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Tuesday, 9 April 2019

Dard Ki Lazzat Se Ashna Hona Tha



Dard Ki Lazzat Se Ashna Hona Tha 
Jab Tum Ko Hum Se Juda Hona Tha
Kyun Jagai Thi Mohabbat Mere Dil Main
Jab Muhabbat Main Tum Ko Bewafa Hona Tha

درد کی لذت سے آشنا ہونا تھا
جب تم کو ہم سے جدا ہونا تھا
کیوں جگائی تھی محبت میرے دل میں
جب محبت میں تم کو بے وفا ہونا تھا

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
یہ اشعار ایک ٹوٹے ہوئے دل کی پکار ہیں، جس میں محبوب کی بے وفائی اور اچانک بچھڑ جانے کے دکھ کو بیان کیا گیا ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ شاید میری قسمت میں ہی دکھ لکھا تھا، اسی لیے قدرت نے تمہیں میری زندگی میں بھیجا اور پھر جدا کر دیا۔ یہ جدائی دراصل مجھے اس "درد" سے متعارف کروانے کا ایک بہانہ تھی جس سے میں اب تک ناواقف تھا۔
  2. دوسرا شعر: یہاں ایک گہرا سوال ہے کہ اگر تمہارے مقدر میں بے وفائی ہی تھی اور تم نے میرا ساتھ چھوڑنا ہی تھا، تو پھر میرے دل میں محبت کی شمع کیوں روشن کی؟ کسی کو محبت کے سہانے خواب دکھا کر بیچ راستے میں چھوڑ دینا انسانیت اور عشق دونوں کے خلاف ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Aj Tumhari Salgirah Hai



Wehshat Se Ranjur Hain
Mehfil Tu Abaad Hai Na
Aj Tumhari Salgirah Hai 
Dekho Hum Ko Yad hai Na

شاعر کا نام:
جون ایلیا

اشعار (Urdu Text):
وحشت سے رنجور ہیں ہم
محفل تو آباد ہے نا
آج تمہاری سالگرہ ہے
دیکھو ہم کو یاد ہے نا
ہم تو خیر جیے جیسے بھی
تم کو سب کچھ یاد ہے نا
کون کسے اب پوچھے گا
سب کچھ اب برباد ہے نا

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
یہ غزل جون ایلیا کے مخصوص لب و لہجے کی عکاسی کرتی ہے جس میں دکھ، تنہائی اور ایک کڑواہٹ موجود ہے۔ اس میں بچھڑ جانے کے بعد کے کرب اور یادوں کے بوجھ کو بیان کیا گیا ہے۔
اشعار کی تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ ہم تو اپنی تنہائی اور وحشت کی وجہ سے غمگین ہیں، لیکن سنا ہے کہ تمہاری زندگی میں اب بھی رونقیں ہیں اور تمہاری محفلیں پہلے کی طرح ہی آباد ہیں۔ یہ ایک طرح کا طنز ہے کہ بچھڑنے کا دکھ صرف ایک طرف ہے۔
  2. دوسرا شعر: یہ اس غزل کا سب سے مشہور شعر ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو یاد دلا رہا ہے کہ اگرچہ ہم اب ساتھ نہیں ہیں، لیکن میں تمہاری زندگی کے اہم دن (سالگرہ) کو آج بھی نہیں بھولا۔ یہ جتانا دراصل اپنی سچی محبت کا ثبوت دینا ہے۔
  3. تیسرا شعر: یہاں ایک گہرا دکھ ہے کہ ہم نے تمہارے بغیر زندگی جیسے تیسے گزار لی، چاہے وہ کتنی ہی تکلیف دہ کیوں نہ تھی۔ مگر کیا تمہیں وہ سب باتیں اور وعدے یاد ہیں جو ہم نے ساتھ کیے تھے؟
  4. چوتھا شعر: غزل کے اختتام پر مایوسی کی انتہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تعلق ہی ختم ہو گیا اور سب کچھ برباد ہو چکا ہے، تو اب کوئی کسی کا حال کیوں پوچھے گا؟ اب سوال و جواب کا وقت گزر چکا ہے۔


Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Sunday, 7 April 2019

Bheeg Jati Hain Ankhain Tanhai Main


Bheeg Jati Hain Ankhain Tanhai Main
Dar Jaty Hain Koi Jaan Na Lay
Pasand Kartay Hain Barish Main Chalna
Takay Rotay Huway Koi Pehchan Na Lay
بھیگ جاتی ہیں آنکھیں تنہائی میں
ڈر جاتے ہیں کوئی جان نہ لے
پسند کرتے ہیں بارش میں چلنا
تاکہ روتے ہوئے کوئی پہچان نہ لے

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
یہ اشعار ایک ایسے شخص کی کیفیت بیان کرتے ہیں جو اپنا دکھ دنیا سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے۔ اس میں اپنی انا اور خودداری کو برقرار رکھنے کے لیے آنسوؤں کو چھپانے کا ذکر ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو اپنی یادوں اور دکھوں کی وجہ سے میری آنکھیں بھر آتی ہیں اور میں رو پڑتا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک خوف بھی ہے کہ کہیں کوئی دوسرا میرے ان آنسوؤں کو دیکھ نہ لے اور میری کمزوری یا میرے راز سے واقف نہ ہو جائے۔
  2. دوسرا شعر: یہ شعر بہت مشہور ہے اور گہرے دکھ کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے بارش میں چلنا اس لیے پسند ہے کیونکہ جب بارش کے قطرے چہرے پر گرتے ہیں تو وہ آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں میں مل جاتے ہیں۔ اس طرح کوئی یہ فرق نہیں کر پاتا کہ میرے چہرے پر بارش کا پانی ہے یا میں رو رہا ہوں۔ یہ دنیا کے سامنے مسکرانے اور تنہائی میں رونے والے انسان کی عکاسی ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

This Month Trending