Sunday, 7 April 2019

In Barishon Se Dosti Achi Nahi Faraz


In Barishon Se Dosti Achi Nahi Faraz
Kacha Tera Makan Hai Kuch Tu Khayal Kar
 
شاعر کا نام:
احمد فراز

اشعار (Urdu Text):
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا ترا مکان ہے کچھ تو خیال کر
وہ بے وفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کو
کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کو
تجھ کو خبر نہیں کہ زمانہ ہے سنگ دل
اپنے وجود کو نہ یوں گردِ ملال کر
وہ مہرِ ماہ ہے اسے پانے کی آرزو
کرتا ہے تو فریبِ تمنا میں حال کر

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
اس غزل میں احمد فراز نے حقیقت پسندی اور انا (Self-respect) کا درس دیا ہے۔ وہ انسان کو اپنی حیثیت پہچاننے اور جذباتی فیصلوں کے بجائے ہوشمندی سے زندگی گزارنے کی تلقین کر رہے ہیں۔
تفصیل:
  1. پہلا شعر: یہ شعر اردو ادب کے مشہور ترین اشعار میں سے ایک ہے۔ یہاں "کچا مکان" انسان کے کمزور حالات یا حساس دل کی علامت ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب تمہارے پاس وسائل کم ہوں یا تم ذہنی طور پر کمزور ہو، تو بڑے بڑے خطروں (بارشوں) سے ٹکرانے کی ضرورت نہیں، ورنہ تمہارا اپنا ہی نقصان ہوگا۔
  2. دوسرا شعر: یہ شعر اعلیٰ ظرفی کی بہترین مثال ہے۔ فراز کہتے ہیں کہ اگر محبوب نے بے وفائی کی ہے تو اسے برا بھلا کہہ کر اپنی زبان خراب نہ کرو، بلکہ اسے اللہ کے سپرد کر دو اور اس کی خوشی کی دعا کرو۔
  3. تیسرا شعر: شاعر انسان کو اپنی قدر کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دنیا بہت ظالم ہے، یہاں لوگ دوسروں کے دکھوں پر خوش ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنے غم کو تماشہ نہ بناؤ اور خود کو اداسی کی دھول میں مت چھپاؤ۔
  4. چوتھا شعر: اس شعر میں محبوب کو "چاند" (مہرِ ماہ) سے تشبیہ دی گئی ہے جو بہت بلند ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اسے پانے کی بے جا ضد میں خود کو ہلاک نہ کرو، کیونکہ کچھ خواہشیں صرف فریب ہوتی ہیں جو انسان کو برباد کر دیتی ہیں۔
 
 

Poet : Ahmed Faraz

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Bheeg Jati Hain Ankhain Tanhai Main


Bheeg Jati Hain Ankhain Tanhai Main
Dar Jaty Hain Koi Jaan Na Lay
Pasand Kartay Hain Barish Main Chalna
Takay Rotay Huway Koi Pehchan Na Lay
بھیگ جاتی ہیں آنکھیں تنہائی میں
ڈر جاتے ہیں کوئی جان نہ لے
پسند کرتے ہیں بارش میں چلنا
تاکہ روتے ہوئے کوئی پہچان نہ لے

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
یہ اشعار ایک ایسے شخص کی کیفیت بیان کرتے ہیں جو اپنا دکھ دنیا سے چھپا کر رکھنا چاہتا ہے۔ اس میں اپنی انا اور خودداری کو برقرار رکھنے کے لیے آنسوؤں کو چھپانے کا ذکر ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو اپنی یادوں اور دکھوں کی وجہ سے میری آنکھیں بھر آتی ہیں اور میں رو پڑتا ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایک خوف بھی ہے کہ کہیں کوئی دوسرا میرے ان آنسوؤں کو دیکھ نہ لے اور میری کمزوری یا میرے راز سے واقف نہ ہو جائے۔
  2. دوسرا شعر: یہ شعر بہت مشہور ہے اور گہرے دکھ کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مجھے بارش میں چلنا اس لیے پسند ہے کیونکہ جب بارش کے قطرے چہرے پر گرتے ہیں تو وہ آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں میں مل جاتے ہیں۔ اس طرح کوئی یہ فرق نہیں کر پاتا کہ میرے چہرے پر بارش کا پانی ہے یا میں رو رہا ہوں۔ یہ دنیا کے سامنے مسکرانے اور تنہائی میں رونے والے انسان کی عکاسی ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

This Month Trending