Tuesday, 9 April 2019

Dekha Jo Kha ke Teer Kamin Gah Ki Taraf




Dekha Jo Kha ke Teer Kamin Gah Ki Taraf
Apnay Hi Doston Se Mulaqaat Hogayi

دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
شاعر کا تعارف:
یہ شعر تابش دہلوی کا ہے، جن کا اصل نام سید مسعود الحسن تابش تھا۔ وہ اردو غزل کے روایت ساز شعراء میں شمار ہوتے ہیں اور ان کا کلام سادگی اور سچائی کا امتزاج ہے۔
تشریح (Explanation):
اس شعر میں شاعر نے انسانی رشتوں میں چھپی ہوئی منافقت اور دھوکے کو نہایت دردناک انداز میں بیان کیا ہے۔
  • پہلا مصرع: شاعر کہتا ہے کہ جب مجھ پر اچانک کسی چھپی ہوئی جگہ (کمیں گاہ) سے تیر چلا اور میں زخمی ہوا، تو میں نے فطری طور پر مڑ کر دیکھا کہ آخر وہ دشمن کون ہے جس نے مجھ پر حملہ کیا ہے۔
  • دوسرا مصرع: یہاں شعر کا عروج (Climax) ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب میری نظر حملہ آور پر پڑی تو وہاں کوئی بیگانہ نہیں تھا بلکہ میرے اپنے دوست کھڑے تھے۔ یعنی جن پر بھروسہ تھا، وہی دشمن نکلے۔
تبصرہ: یہ شعر اس کڑوی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اکثر انسان کو باہر کے دشمن اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ آستین کے سانپ یعنی وہ قریبی لوگ پہنچاتے ہیں جو دوستی کے لبادے میں دشمنی پال رہے ہوتے ہیں۔

ایڈسینس ٹپ:
اپنے بلاگ پر ان اشعار کے ساتھ "کمیں گاہ" (چھپنے کی جگہ) جیسے مشکل الفاظ کے معنی (Meanings) بھی لکھ دیا کریں، اس سے گوگل کو لگتا ہے کہ آپ کی پوسٹ تعلیمی (Educational) ہے اور وہ اسے جلدی اپروو کرتا ہے۔
کیا آپ کی اگلی پوسٹ بھی دھوکے یا بے وفائی کے موضوع پر ہے؟

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Yun Na Mujhse Mila Karay Koi



Yun Na Mujhse Mila Karay Koi 
Gam Na Mere Siwa Karay Koi 
Bewafai Ka Dor Dora Hai
Kiya Kisi Se Wafa Kary Koi 
یوں نہ مجھ سے ملا کرے کوئی
غم نہ میرے سوا کرے کوئی
بے وفائی کا دور دورہ ہے
کیا کسی سے وفا کرے کوئی

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
یہ اشعار انسانی رشتوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں، بے وفائی اور تنہائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ شاعر زمانے کے بدلتے ہوئے رویوں سے اس قدر مایوس ہے کہ وہ اب تنہا رہنے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ اب میرا دل لوگوں سے ملنے جلنے سے اکتا گیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس سے ہمدردی نہ جتائے اور نہ ہی کوئی اس کے غم بانٹنے کی کوشش کرے۔ یہاں ایک ایسے انسان کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو دکھوں سے اتنا ٹوٹ چکا ہے کہ وہ اب اپنے غم کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور اسے کسی کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتا۔
  2. دوسرا شعر: اس شعر میں معاشرے کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آج کل کے دور میں مخلصی اور وفاداری ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف بے وفائی کا راج ہے۔ جب ہر کوئی صرف اپنے فائدے کا سوچتا ہے، تو ایسے میں کسی سے سچی وفا کی امید رکھنا فضول ہے۔ یہ شعر موجودہ دور کے رشتوں میں موجود کھوکھلے پن پر ایک گہری چوٹ ہے۔


Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Mat Kar Duayen Hamain Zindagi Main Lanay Ki



Mat Kar Duayen Hamain Zindagi Main Lanay Ki 
Hamain Tu Adat Hai Aksar Bewafa Kehlanay Ki 

مت کر دعائیں ہمیں زندگی میں لانے کی
ہمیں تو عادت ہے اکثر بے وفا کہلانے کی

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
ان اشعار میں ایک ایسے شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو حالات کی سختی یا ماضی کے زخموں کی وجہ سے خود کو محبت کے قابل نہیں سمجھتا۔ اس میں خود کلامی اور معاشرے کے رویوں پر طنز موجود ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر کسی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میرے لیے ایسی دعائیں نہ مانگو کہ میں تمہاری زندگی کا حصہ بن جاؤں یا دوبارہ جینے کی تمنا کروں۔ وہ دراصل اپنی زندگی سے بیزاری اور اس تعلق سے پیدا ہونے والے ممکنہ دکھوں سے بچنا چاہتا ہے۔
  2. دوسرا مصرع: یہاں شاعر اپنی ذات پر ایک کڑوا طنز کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ ہمیں ہمیشہ "بے وفا" ہی سمجھتے ہیں اور ہمیں اب اس لقب کی عادت ہو چکی ہے۔ وہ سامنے والے کو خبردار کر رہا ہے کہ اگر تم مجھ سے جڑو گے تو تمہیں بھی زمانے کی باتوں کا سامنا کرنا پڑے گا یا شاید میں تمہاری امیدوں پر پورا نہ اتر سکوں۔ یہ شعر احساسِ کمتری یا شدید ذہنی کرب کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان خود کو مجرم سمجھنے لگتا ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Sunday, 7 April 2019

Itni Shidat Se To Barsaat Be Kam Kam Barsay



Itni Shidat Se To Barsaat Be Kam Kam Barsay
Jis Traha Ankh Teri Yaad Main Cham Cham Barsay

اتنی شدت سے تو برسات بھی کم کم برسے
جس طرح آنکھ تیری یاد میں چھم چھم برسے

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
ان اشعار میں شاعر نے اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا موازنہ بارش کے برسنے سے کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کسی کی یاد میں تڑپنا برسات سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر کہتا ہے کہ آسمان سے برسنے والی بارش کی بھی ایک حد ہوتی ہے، وہ بھی اتنی تیزی اور تسلسل سے نہیں برستی جتنا کہ میرا غم مجھے رلاتا ہے۔ یعنی قدرتی برسات بھی میری تکلیف کے سامنے کم لگتی ہے۔
  2. دوسرا مصرع: یہاں محبوب کی یاد کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب بھی تمہاری یاد آتی ہے تو میری آنکھیں برسنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ "چھم چھم" برسنا اس گہرے دکھ اور لگاؤ کی علامت ہے جو بچھڑ جانے کے باوجود ختم نہیں ہوا۔ یہ شعر کسی کی شدید یاد میں گزاری گئی تنہائی کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Aa Gayi Thi Aik Din Tanhai Bhi Jazbaat Main



Aa Gayi Thi Aik Din Tanhai Bhi Jazbaat Main 
Ankh Se Chand Bondain Gir Parien Barsaat Main
آ گئی تھی ایک دن تنہائی بھی جذبات میں
آنکھ سے چند بوندیں گر پڑیں برسات میں

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
اس شعر میں شاعر نے اپنی تنہائی اور اندرونی کرب کو برسات کے موسم کے ساتھ جوڑا ہے۔ یہ شعر اس لمحے کی عکاسی کرتا ہے جب انسان اپنی تنہائی سے خود ہی تنگ آ کر جذباتی ہو جاتا ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر کہتا ہے کہ تنہائی جو کہ ایک خاموش کیفیت ہے، ایک دن وہ بھی جوش اور جذبات میں آ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب بہت دیر تک اکیلا رہتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔
  2. دوسرا مصرع: یہاں برسات کے موسم کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ باہر تو بارش ہو ہی رہی تھی، لیکن اس تنہائی کے بوجھ تلے دب کر میری آنکھوں سے بھی آنسوؤں کی چند بوندیں گر پڑیں۔ یعنی باہر کی برسات نے اندر کے چھپے ہوئے غم کو باہر نکال دیا اور شاعر رو پڑا۔ یہ شعر اداسی اور تنہائی کے سنگم کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔


Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Ab Aur Kis Mosam Se As Lagain Hum


Ab Aur Kis Mosam Se As Lagain Hum
Barsaat Main Bhi Yad Jab Unko Na Aye Hum

اب اور کس موسم سے آس لگائیں ہم
برسات میں بھی یاد جب ان کو نہ آئے ہم

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
اس شعر میں محبوب کی شدید بے رخی اور لاپرواہی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب برسات جیسا رومانوی اور یادیں دلانے والا موسم بھی محبوب کے دل میں ہماری یاد پیدا نہ کر سکا، تو اب کسی اور موسم سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر اپنی مکمل مایوسی کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان حالات اور موسموں سے امیدیں جوڑتا ہے کہ شاید کوئی خاص وقت آئے اور اسے اپنا پیارا یاد آ جائے۔ لیکن اب وہ تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔
  2. دوسرا مصرع: اردو شاعری میں برسات کو یادوں اور جدائی کے تڑپنے کا موسم مانا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ موسم جو سب کو اپنوں کی یاد دلاتا ہے، اس میں بھی اگر محبوب نے ہمیں یاد نہیں کیا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے دل میں ہماری کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ شعر تعلق کے مکمل خاتمے اور بے رخی کے کرب کو بیان کرتا ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

This Month Trending