Tuesday, 9 April 2019

Zaahir Ki Ankh Se Na Tamasha Karay Koi

Zaahir Ki Ankh Se Na Tamasha Kare Koi
Ho Dekhna Tou Deeda Dil Wa Kare Koi
Mansoor Ko Hua Lab Goya Payam-e-mot
Ab Kya Kisi Ke Ishq Ka Dawa Kare Koi
Ho Deed Ka Jo Shoq Tou Ankho Ka Band Kar
Hai Dekhna Yehi Ke Na Dekha Kare Koi
Me Intaha-e-ishq Hun Tu Inteha-e-husn
Dekhey Mujhey Ke Tujh Ko Tamasha Kare Koi
Uzar Afreen-e- Jurm-e-mohabbat Sey Husn-e-dost
Mehshar Me Uzar Taza Na Kare Koi
Chupti Nahi Hai Nigah-e-shoq Hum Nasheen
Phir Aur Kis Tarha Inhen Dekha Kare Koi
Urr Bethey Kya Samajh Ke Bhala Toor Per Kaleem
Taqat Ho Deed Ki Tou Taqaza Kare Koi
Nazarey Ko Ba Junbish Muzgan Bhi Haar Hai
Ba Nargis Ki Ankh Se Tjhey Dekha Kare Koi
Khul Jaen Kya Maze Hen Tamanna-e-shoq Me
Do Char Din Me Jo Meri Tamanna Kare Koi
 
شاعر کا نام:
ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

اشعار (Urdu Text):
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
منصور کو ہوا لبِ گویا پیامِ موت
اب کیا کسی کے عشق کا دعویٰ کرے کوئی
ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی
میں انتہائے عشق ہوں تو انتہائے حسن
دیکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئی
عذر آفریںِ جرمِ محبت ہے حسنِ دوست
محشر میں عذرِ تازہ نہ پیدا کرے کوئی
چھپتی نہیں ہے نگہِ شوق ہم نشیں
پھر اور کس طرح انہیں دیکھا کرے کوئی
اڑ بیٹھے کیا سمجھ کے بھلا طور پر کلیم
طاقت ہو دید کی تو تقاضا کرے کوئی
نظارے کو بہ جنبشِ مژگاں بھی بار ہے
نرگس کی آنکھ سے تجھے دیکھا کرے کوئی
کھل جائیں کیا مزے ہیں تمنائے شوق میں
دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
اس غزل میں علامہ اقبال "بصیرت" اور "عشقِ حقیقی" کا درس دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کائنات کی حقیقتوں اور اللہ کی پہچان کے لیے سر کی آنکھیں نہیں بلکہ دل کی آنکھ کا روشن ہونا ضروری ہے۔
اہم نکات:
  1. دیدۂ دل (باطنی آنکھ): پہلے شعر میں اقبال فرماتے ہیں کہ یہ دنیا مادی آنکھ سے صرف ایک کھلونا نظر آتی ہے۔ اگر حقیقت دیکھنی ہے تو دل کی آنکھ کھولو۔
  2. عشق کی انتہا: منصور حلاج کا ذکر کر کے اقبال بتاتے ہیں کہ عشقِ صادق میں زبان پر سچ لانا موت کو دعوت دینا ہے، مگر عاشق موت سے نہیں ڈرتا۔
  3. دیدار کی شرط: "آنکھوں کو بند کر" سے مراد یہ ہے کہ جب تک انسان بیرونی دنیا کی چکا چوند سے نظریں نہیں ہٹاتا، اسے اپنے اندر موجود خدا کا نور نظر نہیں آتا۔
  4. حضرت موسیٰ (کلیم) کا حوالہ: طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دیدارِ الٰہی کا تقاضا کرنا ایک مشہور واقعہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ دیدار کے لیے صرف شوق کافی نہیں، بلکہ اسے برداشت کرنے کی ہمت اور طاقت بھی ہونی چاہیے۔
  5. تمنائے شوق: آخری شعر میں وہ کہتے ہیں کہ عشق کی راہ میں جو تڑپ اور لذت ہے، وہ وہی جان سکتا ہے جو اس راستے پر چلے۔
 



Poet : Allama Iqbal

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Raaz Ulfat Chupa Ke Dekh Liya



ROMAN VERSION

Raaz-e-ulfat chupa ke dekh liya
dil bahut kuch jala ke dekh liya

aur kiya kehne ko baqi hae
aap se dil laga ke dekh liya

woh mere ho ke bhi mere na hue
unko apna bana ke dekh liya

aaj unki nazron mein kuch hum ne
sab ki nazren bacha ke dekh liya

faiz takmeel-e-gham bhi ho na saki
ishq ko aazma ke dekh liya 
 

شاعر کا نام:
فیض احمد فیض

اشعار (Urdu Text):
رازِ الفت چھپا کے دیکھ لیا
دل بہت کچھ جلا کے دیکھ لیا
اور کیا دیکھنے کو باقی ہے
آپ سے دل لگا کے دیکھ لیا
وہ مرے ہو کے بھی مرے نہ ہوئے
ان کو اپنا بنا کے دیکھ لیا
آج ان کی نظر میں کچھ ہم نے
سب کی نظریں بچا کے دیکھ لیا
فیض تکمیلِ غم بھی ہو نہ سکی
عشق کو آزما کے دیکھ لیا

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
فیض کی یہ غزل محبت میں ملنے والی محرومی، اداسی اور تجربات کا نچوڑ ہے۔ اس میں شاعر نے یہ بیان کیا ہے کہ عشق میں انسان چاہے جتنی بھی کوشش کر لے، آخر کار اسے درد اور تنہائی کا ہی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اشعار کی تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنی محبت کو دنیا سے چھپانے کی بہت کوشش کی تاکہ کوئی انگلیاں نہ اٹھائے، لیکن اس خاموشی اور راز داری نے میرے دل کو اندر ہی اندر جلا کر راکھ کر دیا۔ یعنی محبت چھپانے سے ختم نہیں ہوتی بلکہ انسان کو اندر سے ختم کر دیتی ہے۔
  2. دوسرا شعر: یہ شعر ایک گہرے طنز اور دکھ پر مبنی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اب زندگی میں اور کیا دیکھنا باقی رہ گیا ہے؟ ہم نے آپ سے دل لگا کر زندگی کا سب سے بڑا تجربہ کر لیا، جس کا انجام صرف دکھ نکلا۔
  3. تیسرا شعر: یہاں محبوب کی بے رخی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ انہیں اپنا بنا سکوں، تمام رشتے نبھائے، مگر وہ ساتھ ہو کر بھی کبھی میرے نہ بن سکے، ان کے دل میں میرے لیے وہ جگہ نہ بن سکی جو میں چاہتا تھا۔
  4. چوتھا شعر: اس شعر میں ایک چھپی ہوئی امید اور چوری چھپے دیکھنے کی لذت کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب ہم نے زمانے کی نظروں سے بچ کر ان کی آنکھوں میں جھانکا، تو ہمیں وہاں کچھ خاص محسوس ہوا، جو شاید سب کے سامنے ممکن نہیں تھا۔
  5. مقطع (آخری شعر): فیض کہتے ہیں کہ عشق میں ہم تو مٹ گئے، لیکن ہمارا غم پھر بھی مکمل نہ ہو سکا۔ ہم نے عشق کو ہر طرح سے آزما کر دیکھ لیا، مگر اس راستے میں سکون کہیں نہیں ملا۔
 

Poet : Faiz Ahmad Faiz

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

This Month Trending