Sunday, 7 April 2019

Itni Shidat Se To Barsaat Be Kam Kam Barsay



Itni Shidat Se To Barsaat Be Kam Kam Barsay
Jis Traha Ankh Teri Yaad Main Cham Cham Barsay

اتنی شدت سے تو برسات بھی کم کم برسے
جس طرح آنکھ تیری یاد میں چھم چھم برسے

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
ان اشعار میں شاعر نے اپنی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کا موازنہ بارش کے برسنے سے کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کسی کی یاد میں تڑپنا برسات سے بھی زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر کہتا ہے کہ آسمان سے برسنے والی بارش کی بھی ایک حد ہوتی ہے، وہ بھی اتنی تیزی اور تسلسل سے نہیں برستی جتنا کہ میرا غم مجھے رلاتا ہے۔ یعنی قدرتی برسات بھی میری تکلیف کے سامنے کم لگتی ہے۔
  2. دوسرا مصرع: یہاں محبوب کی یاد کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب بھی تمہاری یاد آتی ہے تو میری آنکھیں برسنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ "چھم چھم" برسنا اس گہرے دکھ اور لگاؤ کی علامت ہے جو بچھڑ جانے کے باوجود ختم نہیں ہوا۔ یہ شعر کسی کی شدید یاد میں گزاری گئی تنہائی کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Aa Gayi Thi Aik Din Tanhai Bhi Jazbaat Main



Aa Gayi Thi Aik Din Tanhai Bhi Jazbaat Main 
Ankh Se Chand Bondain Gir Parien Barsaat Main
آ گئی تھی ایک دن تنہائی بھی جذبات میں
آنکھ سے چند بوندیں گر پڑیں برسات میں

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
اس شعر میں شاعر نے اپنی تنہائی اور اندرونی کرب کو برسات کے موسم کے ساتھ جوڑا ہے۔ یہ شعر اس لمحے کی عکاسی کرتا ہے جب انسان اپنی تنہائی سے خود ہی تنگ آ کر جذباتی ہو جاتا ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر کہتا ہے کہ تنہائی جو کہ ایک خاموش کیفیت ہے، ایک دن وہ بھی جوش اور جذبات میں آ گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب بہت دیر تک اکیلا رہتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔
  2. دوسرا مصرع: یہاں برسات کے موسم کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ باہر تو بارش ہو ہی رہی تھی، لیکن اس تنہائی کے بوجھ تلے دب کر میری آنکھوں سے بھی آنسوؤں کی چند بوندیں گر پڑیں۔ یعنی باہر کی برسات نے اندر کے چھپے ہوئے غم کو باہر نکال دیا اور شاعر رو پڑا۔ یہ شعر اداسی اور تنہائی کے سنگم کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔


Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Ab Aur Kis Mosam Se As Lagain Hum


Ab Aur Kis Mosam Se As Lagain Hum
Barsaat Main Bhi Yad Jab Unko Na Aye Hum

اب اور کس موسم سے آس لگائیں ہم
برسات میں بھی یاد جب ان کو نہ آئے ہم

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
اس شعر میں محبوب کی شدید بے رخی اور لاپرواہی کا ذکر ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب برسات جیسا رومانوی اور یادیں دلانے والا موسم بھی محبوب کے دل میں ہماری یاد پیدا نہ کر سکا، تو اب کسی اور موسم سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر اپنی مکمل مایوسی کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ انسان حالات اور موسموں سے امیدیں جوڑتا ہے کہ شاید کوئی خاص وقت آئے اور اسے اپنا پیارا یاد آ جائے۔ لیکن اب وہ تمام امیدیں ختم ہو چکی ہیں۔
  2. دوسرا مصرع: اردو شاعری میں برسات کو یادوں اور جدائی کے تڑپنے کا موسم مانا جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ موسم جو سب کو اپنوں کی یاد دلاتا ہے، اس میں بھی اگر محبوب نے ہمیں یاد نہیں کیا، تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے دل میں ہماری کوئی جگہ باقی نہیں رہی۔ یہ شعر تعلق کے مکمل خاتمے اور بے رخی کے کرب کو بیان کرتا ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

This Month Trending