Tuesday, 9 April 2019

Yun Na Mujhse Mila Karay Koi



Yun Na Mujhse Mila Karay Koi 
Gam Na Mere Siwa Karay Koi 
Bewafai Ka Dor Dora Hai
Kiya Kisi Se Wafa Kary Koi 
یوں نہ مجھ سے ملا کرے کوئی
غم نہ میرے سوا کرے کوئی
بے وفائی کا دور دورہ ہے
کیا کسی سے وفا کرے کوئی

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
یہ اشعار انسانی رشتوں میں بڑھتی ہوئی دوریوں، بے وفائی اور تنہائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ شاعر زمانے کے بدلتے ہوئے رویوں سے اس قدر مایوس ہے کہ وہ اب تنہا رہنے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا شعر: شاعر کہتا ہے کہ اب میرا دل لوگوں سے ملنے جلنے سے اکتا گیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس سے ہمدردی نہ جتائے اور نہ ہی کوئی اس کے غم بانٹنے کی کوشش کرے۔ یہاں ایک ایسے انسان کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو دکھوں سے اتنا ٹوٹ چکا ہے کہ وہ اب اپنے غم کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے اور اسے کسی کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتا۔
  2. دوسرا شعر: اس شعر میں معاشرے کی ایک کڑوی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آج کل کے دور میں مخلصی اور وفاداری ختم ہو چکی ہے اور ہر طرف بے وفائی کا راج ہے۔ جب ہر کوئی صرف اپنے فائدے کا سوچتا ہے، تو ایسے میں کسی سے سچی وفا کی امید رکھنا فضول ہے۔ یہ شعر موجودہ دور کے رشتوں میں موجود کھوکھلے پن پر ایک گہری چوٹ ہے۔


Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

Mat Kar Duayen Hamain Zindagi Main Lanay Ki



Mat Kar Duayen Hamain Zindagi Main Lanay Ki 
Hamain Tu Adat Hai Aksar Bewafa Kehlanay Ki 

مت کر دعائیں ہمیں زندگی میں لانے کی
ہمیں تو عادت ہے اکثر بے وفا کہلانے کی

تشریح (Explanation):
مرکزی خیال:
ان اشعار میں ایک ایسے شخص کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو حالات کی سختی یا ماضی کے زخموں کی وجہ سے خود کو محبت کے قابل نہیں سمجھتا۔ اس میں خود کلامی اور معاشرے کے رویوں پر طنز موجود ہے۔
تفصیل:
  1. پہلا مصرع: شاعر کسی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میرے لیے ایسی دعائیں نہ مانگو کہ میں تمہاری زندگی کا حصہ بن جاؤں یا دوبارہ جینے کی تمنا کروں۔ وہ دراصل اپنی زندگی سے بیزاری اور اس تعلق سے پیدا ہونے والے ممکنہ دکھوں سے بچنا چاہتا ہے۔
  2. دوسرا مصرع: یہاں شاعر اپنی ذات پر ایک کڑوا طنز کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ لوگ ہمیں ہمیشہ "بے وفا" ہی سمجھتے ہیں اور ہمیں اب اس لقب کی عادت ہو چکی ہے۔ وہ سامنے والے کو خبردار کر رہا ہے کہ اگر تم مجھ سے جڑو گے تو تمہیں بھی زمانے کی باتوں کا سامنا کرنا پڑے گا یا شاید میں تمہاری امیدوں پر پورا نہ اتر سکوں۔ یہ شعر احساسِ کمتری یا شدید ذہنی کرب کی عکاسی کرتا ہے جہاں انسان خود کو مجرم سمجھنے لگتا ہے۔

Shared By
Admin

URDU SHAYARI

https://www.facebook.com/UrduShayaeri/

This Month Trending